ہمسائے

ایک عورت نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ لیا۔ اس کا بیٹا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ کہنے لگا، 'امی جی! ابھی کل ہی تو میں نمک بازار سے لایا تھا، پھر یہ ہمسائیوں سے نمک مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟'
ماں جی کہنے لگی، 'بیٹا، ہمارے ہمسائے غریب ہیں، وہ وقتاً فوقتا ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کچن میں نمک موجود ہے، لیکن میں نے ان سے نمک صرف اس لیے مانگ لیا تا کہ وہ ہم سے کچھ مانگتے ہوئے ہچکچاہٹ یا شرمندگی محسوس نہ کریں۔ بلکہ وہ سمجھیں کہ ہمسائیوں سے حسب ضرورت چیزیں مانگی جا سکتی ہیں۔ اور یہ ہمسائیوں کے حقوق میں سے ہے۔'
خوبصورت معاشرے ایسی ہی ماؤں سے تشکیل پاتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے